میں تو سچی بات کہہ سکتا ہوں اب بھی برملا
فرق آ جائے گا لیکن دوستوں کے درمیاں
معلیٰ
فرق آ جائے گا لیکن دوستوں کے درمیاں
دستِ بے توقیر میں ہیرے کا ٹکڑا کچھ نہیں
یوں دیکھتا ہوں جیسے کوئی چیز کھو گئی
کس کو اپناؤں ، کسے راہ کا پتھر جانوں
ترے حق میں ظالم دعا ہو رہی ہے
بُوئے گُل کہاں ٹھہرے ، کس طرف صبا جائے ؟
کمال یہ ہے کہ بیٹھے ہیں سب کگاروں پر
جنوں کے دور کا کیا اعتبار ہے ساقی یہ لال لال سی شے جو بھری ہے مینا میں علاجِ گردشِ لیل و نہار ہے ساقی
آنکھوں سے نہیں نیند مقدر سے اُڑی ہے
سکونت کے لیے اک استعارہ ڈھونڈتے ہیں یہ دریا زندگی کا پار کیسے ہو کہ جب ہم کنارے پر کھڑے ہیں اور کنارا ڈھونڈتے ہیں