نوحہ کناں ہے روضے پہ شرمندہ سا فرات
عباس ! روتا رہتا ہے پانی تمہارے بعد
معلیٰ
عباس ! روتا رہتا ہے پانی تمہارے بعد
اک سلسلۂ شب کی گرانی سے ملا ہے
جینے کے لیے چاہیے تھوڑا سا جنوں بھی
دن زیست کے یارب ہیں کہ لوہے کے چنے ہیں
قلت کے ختم ہوتے ہی بہتات بھی گئی
تم کو کسی گناہ کا موقع نہیں ملا
وہاں شاعر نے پورا شعر اس منظر پہ لکھا ہے
کیا ہوتا جو ورثہ میں ملتا نہ خدا مجھ کو
شریکِ بحر جو قطرہ ہوا حباب بنا تو آپ اپنے ہی جلووں میں رہ گیا گھر کر ترا ہی عکس ترے حسن کا جواب بنا بچھڑ کے تجھ سے ترا سایہ جہاں افروز سحر کو مہر بنا ، شب کا ماہتاب بنا نہ مٹ سکے گا ترا نقش لوحِ فطرت سے نہ بن سکے گا […]
تن آسانی بری شے ہے ، تن آسانی نہیں جاتی ہمیشہ دامن اشکِ خوں سے لالہ زار رہتا ہے یہ فطرت کے تبسم کی گل افشانی نہیں جاتی نظامِ دہر اگر میرے لیے بدلا تو کیا بدلا کسی گھر سے بھی شامِ غم بآسانی نہیں جاتی جنوں میں ہوش کیا جاں بھی بسا اوقات جاتی […]