نمو کے جوش میں ذوقِ فنا حجاب بنا

شریکِ بحر جو قطرہ ہوا حباب بنا تو آپ اپنے ہی جلووں میں رہ گیا گھر کر ترا ہی عکس ترے حسن کا جواب بنا بچھڑ کے تجھ سے ترا سایہ جہاں افروز سحر کو مہر بنا ، شب کا ماہتاب بنا نہ مٹ سکے گا ترا نقش لوحِ فطرت سے نہ بن سکے گا […]

ہمیں سے جستجوئے دوست کی ٹھانی نہیں جاتی

تن آسانی بری شے ہے ، تن آسانی نہیں جاتی ہمیشہ دامن اشکِ خوں سے لالہ زار رہتا ہے یہ فطرت کے تبسم کی گل افشانی نہیں جاتی نظامِ دہر اگر میرے لیے بدلا تو کیا بدلا کسی گھر سے بھی شامِ غم بآسانی نہیں جاتی جنوں میں ہوش کیا جاں بھی بسا اوقات جاتی […]