چمن میں ہم نے یہی بار بار دیکھا ہے
خزاں گئی ہے فصلِ بہار آئی ہے
معلیٰ
خزاں گئی ہے فصلِ بہار آئی ہے
لیکن تمہاری یاد ہے دل میں بسی ہوئی
اللہ نہ دکھائے مجھے لاہور کی گرمی
وہ وقت بھی آئیگا مجھے یاد کرو گے
پھر چمک اٹھیں نہ اس ظالم کو ہنستا دیکھ کر
لیے بیٹھا ہے متاعِ غمِ پنہاں کوئی فکرِ پوشیدگیِ راز میں ہیں دیوانے سی رہا ہے کوئی دامن تو گریباں کوئی
وہ بھی غریب دل کی طرح بے زبان ہے
دلِ مرحوم یاد آتا ہے اس کی محفل میں یارب ہے دل شاد جاتا ہے ، شاد آتا ہے
ملا نہ نخلِ وفا کا کہیں سراغ مجھے
غدار کا ماتم گلی گلی اے وطن فروشو کریں گے ہم بیوپار کا ماتم گلی گلی بندوقوں والے دیکھیں گے تلوار کا ماتم گلی گلی تم سب رکھوالے چوروں کے کردار کا ماتم گلی گلی ہوگا آئین کی میت پر لاچار کا ماتم گلی گلی تاریخ نے دیکھ لیا آخر سالار کا ماتم گلی گلی […]