سزائے حرفِ تمنا زیانِ جاں ہی سہی
کوئی تو حرفِ تمنا زبان پر لائے
معلیٰ
کوئی تو حرفِ تمنا زبان پر لائے
دیکھ لیں گے سر بھی ٹکرا کر در و دیوار سے سیدھے سادے راستے پر کیا اٹھائیں ہم قدم پاؤں لپٹے جا رہے ہیں راہِ ناہموار سے اک ذرا سی نیند آئی تھی کہ پھر چونکا دیا تنگ ہم تو آ گئے اپنے دلِ بیدار سے ناز تھا جن کارناموں پر کبھی ہم کو بہت […]
یہ ان قدموں کی آہٹ ہے یا دل میرا دھڑکتا ہے
کہاں تک اب بھلا ہم روز شاخِ آشیاں بدلیں عجب کیا ہے کہ اب کچھ ہم قفس صیاد بن جائیں قفس والوں سے یہ کہہ دو کہ اندازِ فغاں بدلیں
مگر پھر بھی دامن ہے خالی کا خالی
خوش خیالی کا برا ہو ، میں یہ سمجھا آپ ہیں
بات میں بات نکلتی آئی
لیـکن ، اِسے بازار بنانے سے رہا مَیں
بہشت ، جس میں میسّر ہوں گھر کرائے پر
پھر یوں ہوا ، اک دن تری تصویر جلا کر جلتی ہوئی تصـویر سے باہر نہیں آئے