میں ہجـــــر کاٹنے والوں کے کام آتا ہوں
ہے میرے پاس اداسی کا بند و بست بہُت
معلیٰ
ہے میرے پاس اداسی کا بند و بست بہُت
ہم کســی اور کے ہوتے تو تمھـارے ہوتے
کہیں میَں وقت سے پہلے بھی جایا کرتا تھا
ہوتا نہیں ہوں نیند سے بیدار خود سے میں
زندہ ہیں گزرے وقت میں، سب مر چکے ہوئے
کیسے لگتے ہیں تجھے چھوڑ کے جاتے ہوئے ہم
خود پر چلا نہیں رہا تلوار خود سے میں پیدا ہوا ہوں جب سے مری خود سے جنگ ہے ڈرتا ہوں مان لوں نہ کہیں ہار خود سے میں
یعنی خود اپنی ذات کی پہچان مل گئی دل کی نظر سے میں نے جو دیکھی یہ کائنات ہر شئے جو تھی مفسرِ قرآن مل گئی
دستِ نازک میں محبت کا اثر ہو جیسے
وہ غم بھی مرے واسطے سوغات میں آئے