راہِ جنوں میں جوش کا عالم نہ پوچھیے
رکھا جہاں قدم ، اُسے صحرا بنا دیا
معلیٰ
رکھا جہاں قدم ، اُسے صحرا بنا دیا
بیٹھے ہوئے تھے وہ دلِ خانہ خراب میں
وہ حسنِ اتفاق سے منصور ہو گئے
اُس دن سے دوستو بڑے آرام سے رہے
کاٹے ترے بغیر جو غربت میں چار دن
میرا جینا محال ہو جاتا آئینہ سامنے نہ تھا ورنہ وہ مرا ہم خیال ہو جاتا مجھ سے اپنا ضمیر بک نہ سکا ورنہ آسودہ حال ہو جاتا مجھ کو حسرت رہی کہ دنیا میں کوئی تو ہم خیال ہو جاتا وہ تو کہیے تری مثال نہ تھی ورنہ میں بے مثال ہو جاتا
کہ یوں لگتا ہے جیسے حسن کی تفسیر کرتا ہوں کسی کی بھی کبھی تقلید بھولے سے نہیں کرتا جو کچھ دل پر گزرتا ہے وہی تحریر کرتا ہوں پریشاں میں رہوں دنیا پریشانی سے بچ جائے ٹھہر اے گردشِ دوراں تجھے زنجیر کرتا ہوں مری تقدیر کے لکھے پہ دنیا خندہ زن کیوں ہے […]
لوگ دیوانہ سمجھتے ہیں گزر جاتے ہیں
صد شکر کہ مجھ پر کوئی الزام نہیں ہے
وہ کون شخص تھا جسے دیکھا تھا خواب میں