میں اگر لازوال ہو جاتا

میرا جینا محال ہو جاتا آئینہ سامنے نہ تھا ورنہ وہ مرا ہم خیال ہو جاتا مجھ سے اپنا ضمیر بک نہ سکا ورنہ آسودہ حال ہو جاتا مجھ کو حسرت رہی کہ دنیا میں کوئی تو ہم خیال ہو جاتا وہ تو کہیے تری مثال نہ تھی ورنہ میں بے مثال ہو جاتا

میں اپنی زندگی اس شان سے تحریر کرتا ہوں

کہ یوں لگتا ہے جیسے حسن کی تفسیر کرتا ہوں کسی کی بھی کبھی تقلید بھولے سے نہیں کرتا جو کچھ دل پر گزرتا ہے وہی تحریر کرتا ہوں پریشاں میں رہوں دنیا پریشانی سے بچ جائے ٹھہر اے گردشِ دوراں تجھے زنجیر کرتا ہوں مری تقدیر کے لکھے پہ دنیا خندہ زن کیوں ہے […]