غم کو رفیق جان کے اپنا رہا ہوں میں
راس آئے یا نہ آئے یہ قسمت کی بات ہے
معلیٰ
راس آئے یا نہ آئے یہ قسمت کی بات ہے
ایسے بھی کچھ درخت مسافر نواز ہیں
یہ کس منزل میں لے آئیں مجھے گمراہیاں میری
تن ڈھانپوں تو پیٹ ہے خالی ، پیٹ بھروں تو ننگا ہوں
میرا انجام نئے دور کا آغاز بھی ہے
میں نے اسے ہر رنگ میں ہر روپ میں دیکھا
تم بھی دنیا کی نگاہوں سے اتر کر دیکھو
آج کی رات ذرا ذکرِ سحر کر
علم ، خواجہ فرید ہو جائے آگہی کے نگار خانے میں روشنی کچھ مزید ہو جائے پھر دوکانیں سجی ہیں زخموں کی آؤ پھر کچھ خرید ہو جائے دل کی جنت کو پھونکنے والے تو جہنم رسید ہو جائے کیا جیئیں اہلِ حق وہاں کہ جہاں لمحہ لمحہ یزید ہو جائے رمزِ لاتقنطو کا متوالا […]
بہت سا کام لیتا ہے ، کمائی کچھ نہیں دیتا ترا چہرہ ہی اب تو بن گیا ہے میری بینائی نہ جب تک سامنے تو ہو ، دکھائی کچھ نہیں دیتا