راس اب کے ہمیں شہرِ ستمگر نہیں آیا
یارو کسی جانب سے بھی پتھر نہیں آیا
معلیٰ
یارو کسی جانب سے بھی پتھر نہیں آیا
کچھ نہ کچھ رابطہ باہر کی ہوا سے رکھو
ظاہر کبھی غربت کے مفاہیم نہ کرنا
خیال یہ ہے کہ عزت سے مر کے دیکھتے ہیں
میداں میں مری گود کے پالے نکل آئے
یارو انہیں کے ہاتھ سے پتھر لگے مجھے
ڈوبی ہوئی کشتی کو ابھرنا نہیں آتا ہر گام پہ ہوتا ہے گماں حدِ عدم کا شاید مجھے دنیا سے گزرنا نہیں آتا
ہزاروں زرنگار آنچل تصور میں جھلکتے ہیں
ورنہ یہ گل کدہ بیگانۂ رعنائی ہو
ترکشِ ناز میں کیا اور کوئی تیر نہیں