زلف و جبیں کی کشمکش اہلِ چمن سے کہہ گئی
صبحِ بہار کے لیے شرطِ شب دراز ہے
معلیٰ
صبحِ بہار کے لیے شرطِ شب دراز ہے
حدودِ عشق میں داخل ہوا جب کارواں میرا
ہے کس کی آستین میں خنجر ، تلاش کر
جنوں سے ملتے تو دریا تلاش کر لیتے
قاتل کو اپنا زخم دکھانے سے فائدہ
خرد ہے سنگ بداماں نہ جانے کب کیا ہو
مگر رہبر کی نیت ہی بدل جائے تو کیا کیجیے
اور اُس کو بانٹ دو لوگوں میں حوصلہ کر کے
سُن کے آئے تھے یہاں لعل و گُہر ملتے ہیں
رنج و الم کی سخت چٹانوں کو کیا کروں