وہ درد و داغِ دل تھا کہ سوزِ آہ و اشک
دنیا نے ہر حسابِ الم ، بیش و کم لیا
معلیٰ
دنیا نے ہر حسابِ الم ، بیش و کم لیا
خانہ ویرانی کا عالم ، گھر میں تھا
ڈھونڈ لو اب نیا خدا کوئی
پہچانیے کہ آدمی یہ کس صدی کا ہے
کہاں سے لاؤں زباں اُن سے گفتگو کے لیے
لیکن تلاش جس کی ہے وہ راہزن کہاں
جو سوچیے تو یہی آبروئے صحرا ہے
ایسی ہی روشنی تھی جب میرا گھر جلا تھا
اک عمر سے بہتر ہے اک لمحۂ تنہائی
گستاخیٔ خرد کی سزا ہے تمام عمر