خود کو ہم آپ بھی یہ روگ لگانے لگ جائیں

جو ملے ہنس کے اُسے دل میں بسانے لگ جائیں کیا ستمگار ہیں جو مہر و محبت کے چراغ خود ہی روشن بھی کریں خود ہی بجھانے لگ جائیں یہ سمجھ لو کہ غمِ ہجر کا موسم ہے قریب لوگ جب تم سے بہت پیار جتانے لگ جائیں کوئی دو چار قدم بھی جو چلے […]

وار دنیا کا چل نہ جائے کہیں

تو بھی ہم سے بدل نہ جائے کہیں وہ پشیماں تو لازماََ ہو گا شوق کی عمر ڈھل نہ جائے کہیں اے غمِ یار تیری عمر دراز میری آہوں سے جل نہ جائے کہیں چُپ تو بیٹھے ہیں سامنے اُس کے کوئی آنسو نکل نہ جائے کہیں اُس نے وعدہ کیا کل آنے کا کل […]

کچھ اس ادا سے کچھ ایسے ہنر سے اترے گا

کہ عمر بھر نہ وہ قلب و نظر سے اترے گا عروج پر ہے تمازت دکھوں کے سورج کی نجانے کب یہ مرے بام و در سے اترے گا نجانے ختم ہو کب بے جہت سفر یارو نجانے بوجھ یہ کب اپنے سر سے اترے گا مرے خیال میں یہ انتہائے گریہ ہے اب اس […]