یہ زندگی کا دشت ، یہ محرومیوں کی دھوپ
بیٹھیں کہاں کہ سایۂ دیوار بھی نہیں
معلیٰ
بیٹھیں کہاں کہ سایۂ دیوار بھی نہیں
ہر سمت نگاہوں کی زنجیر نظر آئی
گذری ہوئی حیات کے نقش و نگار کو
اپنے اسلاف کے قدموں کے نشاں ڈھونڈتا ہوں
احباب تو مزار کا پتھر بدل گئے
کریم میری ضرورت کو شرمسار نہ کر میں لفظ لفظ میں سچائیاں پروتا رہوں مری غزل کو غزل کر دے شاہکار نہ کر
جو ملے ہنس کے اُسے دل میں بسانے لگ جائیں کیا ستمگار ہیں جو مہر و محبت کے چراغ خود ہی روشن بھی کریں خود ہی بجھانے لگ جائیں یہ سمجھ لو کہ غمِ ہجر کا موسم ہے قریب لوگ جب تم سے بہت پیار جتانے لگ جائیں کوئی دو چار قدم بھی جو چلے […]
تو بھی ہم سے بدل نہ جائے کہیں وہ پشیماں تو لازماََ ہو گا شوق کی عمر ڈھل نہ جائے کہیں اے غمِ یار تیری عمر دراز میری آہوں سے جل نہ جائے کہیں چُپ تو بیٹھے ہیں سامنے اُس کے کوئی آنسو نکل نہ جائے کہیں اُس نے وعدہ کیا کل آنے کا کل […]
کہ عمر بھر نہ وہ قلب و نظر سے اترے گا عروج پر ہے تمازت دکھوں کے سورج کی نجانے کب یہ مرے بام و در سے اترے گا نجانے ختم ہو کب بے جہت سفر یارو نجانے بوجھ یہ کب اپنے سر سے اترے گا مرے خیال میں یہ انتہائے گریہ ہے اب اس […]
تیرا نعم البدل کوئی نہیں ہے