کعبہ بنائیے کہ کلیسا بنائیے
لیکن دل و نظر کو کشادہ بنائیے
معلیٰ
لیکن دل و نظر کو کشادہ بنائیے
دل کے تو یہ دو ہی خانے ہوتے ہیں
تمہارے ساتھ وہ ہنگامۂ بہار گیا
ہم نے کیا ہے عشق ، تماشا نہیں کیا
غمِ حیات کی ساری تھکن اتار گیا
تیرے لبوں کو کبھی پنکھڑی کو دیکھتے ہیں اگرچہ بزم میں بیٹھے ہیں خوش جمال کئی سب اہلِ بزم مگر اک اُسی کو دیکھتے ہیں
ایمان بک بھی جائے تو پیسہ بنائیے
اک غم نصیب شخص کے دامن میں ڈال دے
کہ دکھ کسی کا ہو لگتا ہے ہو بہو میرا
ہمیں تو اوروں کے دکھ بھی نڈھال رکھتے ہیں