یارب طلب نہیں کہ مال و منال دے
شاعر ہوں مجھ کو شعر و سخن میں کمال دے اس کے سوا نہیں ہے طلب کچھ سکون کی اک آگہی جو قلب و نظر کو اجال دے
معلیٰ
شاعر ہوں مجھ کو شعر و سخن میں کمال دے اس کے سوا نہیں ہے طلب کچھ سکون کی اک آگہی جو قلب و نظر کو اجال دے
تیرا پتا ملا ہے نہ تیرا پتا ملے میں خاک میں ملوں تو کہیں کچھ پتہ چلے نقشِ قدم بنوں تو ترا نقشِ پا ملے تم مجھ سے آ ملے کبھی دشمن سے جا ملے جب یہ مزاج ہے تو کوئی تم سے کیا ملے بعد فنا بھی خیر سے تنہا نہیں ہیں ہم بندوں […]
وفا کی قدر کرتے ہیں وفا کے جاننے والے تری تیغ ادا کھنچتے ہی اپنی جان جاتی ہے قضا سے پہلے مرتے ہیں قضا کے جاننے والے بھری ہیں شوخیاں لاکھوں تری نیچی نگاہوں میں ہمیں ہیں کچھ تری شرم و حیا کے جاننے والے مری فریاد سن کر کچھ انہیں پروا نہیں ہوتی نڈر […]
امید یاس بن کے مرے دل میں رہ گئی بیتاب ہو کے حسرتِ دل ، دل میں رہ گئی لیلیٰ تڑپ کے پردۂ محمل میں رہ گئی تو ہم سے چھپ گیا تو تری شکل دل فریب تصویر بن کے آئینۂ دل میں رہ گئی دشمن کے بھیس میں نہ کہا مدعائے دل یہ چال […]
بڑی حیرت سے صورت تک رہا ہے آسماں میری
یہ سر جدا ہے جسم سے یا تم رقیب سے
پڑی ہے تجھ کو سمجھانے کی اپنا دم نکلتا ہے
دل کی فریاد دلربا نہ سنے
اے چرخ کینہ پرور تو کیوں ستا رہا ہے؟ کوچے میں دشمنوں کے ہم اور سجدہ کرتے نقشِ قدم کسی کا سر کو جُھکا رہا ہے
جس پہ سایہ ہے تیرے کوچے کی دیواروں کا