ڈوب گئیں سب یادیں اُس کی رنگ گُھلے اور شام ہوئی

دل نے جو بھی بزم سجائی ، بکھری اور ناکام ہوئی پل بھر آگے جھوم رہی تھی کرنوں کی پھلواری سی اب یہ خاموشی ، تنہائی ، ہائے رے کیسی شام ہوئی گرم و گداز وہ سانسیں اُس کی ، جسم مہکتا انگارہ دھیمی دھیمی آنچ لبوں کی حاصلِ صبح و شام ہوئی آنچل کی […]

ابھی کلیوں میں چٹک ، گُل میں مہک باقی ہے

دل میں رونق ، ابھی آنکھوں میں چمک باقی ہے اے ستم گر ترا بازو نہ ٹھہرنے پائے جب تلک جسم میں جاں ، جاں میں کسک باقی ہے اور ہر شے جو دمکتی تھی مٹا دی تو نے دل سے اٹھتے ہوئے شعلوں کی لپک باقی ہے اور کچھ دیر ترے دور کا چرچا […]

دیارِ یار گیا ، انتظارِ یار گیا

گیا وہ یار گیا ، مدتوں کا پیار گیا وہ صبحِ عشق کی شبنم وہ شام کا شعلہ وہ رشکِ سرو و سمن ، رونقِ بہار گیا وہ جس کے حسن میں شوخی تھی موجِ دریا کی مچلتی ناچتی لہروں کے ہم کنار گیا وہ میرا دوست ، مرا آشنا مرا محبوب وہ جس کے […]