نگاہِ دلربا اونچی سے اونچی ہوتی جاتی ہے
تنزل چاہتا ہوں میں ترقی ہوتی جاتی ہے
معلیٰ
تنزل چاہتا ہوں میں ترقی ہوتی جاتی ہے
آہ ظالم نے مری اُلفت کا جھٹکا کر دیا
اور یونہی خواہ مخواہ کیے جا رہا ہوں میں جھڑتی ہیں ان کے منہ سے جو منظوم گالیاں سن سن کے واہ واہ کیے جا رہا ہوں میں
مجھے اکثر یہ لطفِ غائبانہ یاد آتا ہے
برف میں دل لگا کے دیکھ لیا
ظفر علی سے اسے نسبتِ مریداں ہے
ہر لحظہ مجھے اشک بہانا نہیں آتا
دل نے جو بھی بزم سجائی ، بکھری اور ناکام ہوئی پل بھر آگے جھوم رہی تھی کرنوں کی پھلواری سی اب یہ خاموشی ، تنہائی ، ہائے رے کیسی شام ہوئی گرم و گداز وہ سانسیں اُس کی ، جسم مہکتا انگارہ دھیمی دھیمی آنچ لبوں کی حاصلِ صبح و شام ہوئی آنچل کی […]
دل میں رونق ، ابھی آنکھوں میں چمک باقی ہے اے ستم گر ترا بازو نہ ٹھہرنے پائے جب تلک جسم میں جاں ، جاں میں کسک باقی ہے اور ہر شے جو دمکتی تھی مٹا دی تو نے دل سے اٹھتے ہوئے شعلوں کی لپک باقی ہے اور کچھ دیر ترے دور کا چرچا […]
گیا وہ یار گیا ، مدتوں کا پیار گیا وہ صبحِ عشق کی شبنم وہ شام کا شعلہ وہ رشکِ سرو و سمن ، رونقِ بہار گیا وہ جس کے حسن میں شوخی تھی موجِ دریا کی مچلتی ناچتی لہروں کے ہم کنار گیا وہ میرا دوست ، مرا آشنا مرا محبوب وہ جس کے […]