غم ترا ہم نے پا لیا ، قلب و جگر گئے تو کیا

دور مسرتیں لیے کوئی ہنسا کرے تو کیا یہ تو نہ تھی طلب کی شرط لب پہ ضرور لا سکوں گر وہ مرے کہے بغیر کچھ نہ سمجھ سکے تو کیا کہتے ہیں حالِ دل کہو وہ ہیں بڑے وفا شناس جب کوئی بات ہی نہ ہو اُن سے کوئی کہے تو کیا دل کے […]

جھونکا چلا قضا کا تو چپکے سے سو گئے

آیا جو کاروانِ اجل ساتھ ہو گئے جس قافلے کے ساتھ ہی چلتا رہے گا وہ منزل جب اپنی آئی الگ ہو کے کھو گئے اس بحر میں تلاطم و طغیاں کا زور تھا ساحل نظر نہ آیا تو کشتی ڈبو گئے ہم نے وفا میں کوئی کمی کی نہیں مگر ہم کیا کریں کہ […]

اس کارزارِ زیست میں تنگ آ گئے ہیں ہم

لے کر اجل کی تیغ و خدنگ آ گئے ہیں ہم یاروں سے کی وفا تو جفا کا ، ملا فریب سکرات میں بہ عرصہ بنگ آ گئے ہیں ہم جو آئینہ غبار و کدورت سے پاک تھا اس پر بھی اب جو لگ گیا زنگ آ گئے ہیں ہم نقش بر آب تھے تو […]

چھلکی جو مئے تو بن کے شرر گونجتی رہی

مینا سے تابہ ساغر زر گونجتی رہی بادل کی سی گرج تھی یہ دنیا کہیں جسے جو درمیانِ شمس و قمر گونجتی رہی تھی جو دعا وہ ابر کے دامن میں چُھپ گئی جو بددعا تھی بن کے اثر گونجتی رہی آئی خزاں طیور تو جتنے تھے اُڑ گئے نغموں سے پھر بھی شاخِ شجر […]