جو حال تھا حیات میں وہ ہے ممات میں
کچھ دوست آ کے ہنس گئے کچھ آ کے رو گئے
معلیٰ
کچھ دوست آ کے ہنس گئے کچھ آ کے رو گئے
آئینۂ جہاں کو لگا زنگ دوستو
شب ابھی آئی نہیں ، شام ابھی باقی ہے
داستانِ نوش و عیش و نیش و سَم لکھتے رہے
کیا جانے کیوں یہ رہ گزر گونجتی رہی
بس اے تلاشِ یار نہ در در پھرا مجھے
کہیں زاہد ولی نہ ہو جائے
پہلو میں میرے آؤ تو کہہ دوں یہاں ہے اب
رہا ملال تو کوئی ملال ہی نہ رہا
سچ ہے بری بلا ہے غم دوریٔ وطن