دیکھ کر میرے جنازے کو کہا
پاؤں پھیلائے ہیں چادر دیکھ کر
معلیٰ
پاؤں پھیلائے ہیں چادر دیکھ کر
ملا جواب ہمیشہ رہے خدا کا نام
الفاظ نے پہن لیے معنی نئے نئے
پیشِ نگاہ جیسے کوئی آئینہ نہ ہو
رکھا ہے میں نے گھر کا دریچہ کُھلا ہوا
رازؔ ! کن یاروں کے مابین کھڑا ہوں ، میں بھی
اب تم سے ملاقات نہیں ہو سکتی ہم اور کریں شام و سحر کی بیعت گر کر تو کبھی بات نہیں ہو سکتی
اک دھند کا پھیلا ہے جہاں نظروں میں کس دشتِ بلا سے ہوں گذر کر آیا ہے ریت کا دریا سا رواں نظروں میں
میں موج نہیں ہوں کہ گذر جاؤں گا انسان ہوں آؤ مجھے چھو کر دیکھو میں ریت نہیں ہوں کہ بکھر جاؤں گا
ہر صورت کی تعبیر نہاں ہے اس میں بچے کا ہے ہر بول معانی کا جہاں ہر لذتِ تقریر نہاں ہے اس میں