بس یہ ہوا کہ خاک بکھرنے کی دیر تھی
کچھ لوگ جی اُٹھے مِرے مرنے کی دیر تھی
معلیٰ
کچھ لوگ جی اُٹھے مِرے مرنے کی دیر تھی
اور آ گئے ہیں فرشتے بھی گوشوارے لیے
اس کی تصویر نہيں ورنہ دکھاتا تجھ کو
دُنیا بھی جیسے اَندھے کباڑی کا مال ہو
جو شخص مرے نام سے مشہور ہوا ہے
چل پڑا ہوں میں کوئی شعر کمانے کےلیے
کھڑے بھی رہنا’ سہولت سے لڑکھڑانا بھی
لیکن چہرے پر جو کالی آنکھیں ہیں
دکان دار و خــریدار جھوٹ بولتے ہیں
پھر یوں ہوا کہ لوگ کہانی سے ڈر گئے