اُس نے کاغذ پہ کوئی پھــــول بنا کر بھیجا
اور اُس پھول سے آنے لگی مہکار مجھے
معلیٰ
اور اُس پھول سے آنے لگی مہکار مجھے
میں اِک نگینہ ہوں اور آنکھ میں جَڑا ہوا ہوں
لوگوں کو اُن کے خواب جگا کر دیئے گئے
کیا تجھے ڈر نہيں لگا مجھ سے
میں سانس لیتی ہوئی زندگی کا آدمی ہوں
ٹھہر اے بے قراری ہر بنِ مُو دل نہ بن جائے وہ ڈرتے ہیں اٹھاتے فتنۂ دار و رسن تازہ کہ میرے صبر کی یہ آخری منزل نہ بن جائے مری آنکھوں میں چارہ گر ابھی ماضی کے نقشے ہیں ترا دستِ شفا پھر پنجۂ قاتل نہ بن جائے مرا ذکرِ محبت آج کیوں احباب […]
تڑپ بڑھ کر میری وجہِ سکون دل نہ بن جائے
شیداؔ یہ اور بات ہے میں بے نیاز ہوں
آشیاں اور بنا لیں گے عنادل کی طرح
جہاں والے اسی کو کاوشِ پیہم بھی کہتے ہیں