مرا جذبِ دروں افسانۂ محفل نہ بن جائے

ٹھہر اے بے قراری ہر بنِ مُو دل نہ بن جائے وہ ڈرتے ہیں اٹھاتے فتنۂ دار و رسن تازہ کہ میرے صبر کی یہ آخری منزل نہ بن جائے مری آنکھوں میں چارہ گر ابھی ماضی کے نقشے ہیں ترا دستِ شفا پھر پنجۂ قاتل نہ بن جائے مرا ذکرِ محبت آج کیوں احباب […]