دل ٹوٹنے کا لاکھ مداوا کرے کوئی
شیشہ جو ٹوٹ جائے تو جڑنا محال ہے
معلیٰ
شیشہ جو ٹوٹ جائے تو جڑنا محال ہے
آگ لگ جائے نہ دامن کو ، بچائے رکھنا
تمہیں بھی لگ گئی آخر ہوا زمانے کی
جلاؤ دل کہ ضرورت ہے دل جلانے کی
پوچھو تو بہت ٹھہری سی اِک نوحہ گری ہے
بے طرح داستاں بدلتی تھی لاکھ بدلے زمانہ اور موسم دل کی حالت کہاں بدلتی تھی
وعدۂ یار کی یہ رات بِتا لی جائے
گذرے ہو تم بھی شوق کے صحرا سے کیا میاں
کڑوا ہی نہ میٹھا رس گھولا ہی نہیں کوئی
جیسی مجھے بھرنی پڑی کرنی تو نہیں تھی