وہ مقدر میں نہیں جو ہمارے دل میں ہے

اب خیالِ سعیِ حاصل سعیِ لاحاصل میں ہے میرے دل میں ہے نہ وہ اغیار کی محفل میں ہے یاالہٰی اب مقامِ دوست کس منزل میں ہے وصل سے انکار اُن کو ، یاں تمنائے وصال واں وفا مشکل میں ہے ، یاں آرزو مشکل میں ہے اک قدم بڑھتا ہوں تو بڑھتی ہے منزل […]

ہنوز ایسے بھی انسان روزگار میں ہیں

کبھی سحر کے کبھی شب کے انتظار میں ہیں یہ راہ سوچ سمجھ کر ہی اختیار کریں وہ سوئے دار چلے ہیں جو کوئے یار میں ہیں کچھ ایسے لوگ ابھی تک چمن میں ہیں شاید فریب خوردہ خزاں میں نہ خوش بہار میں ہیں بہ فیضِ سوزِ دروں اور بطرزِ اہلِ جنوں وہی ہے […]