ادھر سے دیکھیں تو اپنا مکان لگتا ہے
اک اور زاوئیے سے آسمان لگتا ہے
معلیٰ
اک اور زاوئیے سے آسمان لگتا ہے
اب خیالِ سعیِ حاصل سعیِ لاحاصل میں ہے میرے دل میں ہے نہ وہ اغیار کی محفل میں ہے یاالہٰی اب مقامِ دوست کس منزل میں ہے وصل سے انکار اُن کو ، یاں تمنائے وصال واں وفا مشکل میں ہے ، یاں آرزو مشکل میں ہے اک قدم بڑھتا ہوں تو بڑھتی ہے منزل […]
پرچھائیوں سے کون و مکاں کس طرح بنے ناخن سے سینہ چیر لوں کچھ کہہ نہ پاؤں میں ناخن ہے تیز پھر بھی زباں کس طرح بنے
نشانی میں وہ آنکھوں سے تکلم کا ہنر دے گا
میں نے خود کو بھولنے میں ہنر ور کر لیا
نوح کے پسر لاکھوں ، ایک خاکداں اپنا
میرا دمساز ہی آخر مرا قاتل ٹھہرا
کبھی سحر کے کبھی شب کے انتظار میں ہیں یہ راہ سوچ سمجھ کر ہی اختیار کریں وہ سوئے دار چلے ہیں جو کوئے یار میں ہیں کچھ ایسے لوگ ابھی تک چمن میں ہیں شاید فریب خوردہ خزاں میں نہ خوش بہار میں ہیں بہ فیضِ سوزِ دروں اور بطرزِ اہلِ جنوں وہی ہے […]
مل جائے میرا چاند ہے وہ چاندنی کہاں
اے کاش مل سکے نگہِ یار بھی وہی