پھر ذکرِ رونقِ شبِ ماہتاب آ ہی گیا
سامانِ وحشتِ دلِ بیتاب آ ہی گیا
معلیٰ
سامانِ وحشتِ دلِ بیتاب آ ہی گیا
خوشا کہ مستی فیضِ جنوں سے چیخ اٹھے یہ ناز طبع بلند بہ زعم خود نگہی زمانہ سازی دنیائے دوں سے چیخ آٹھے
چشموں کا رنگ و بو کا بہاروں کا شوق ہے انسانیت کے رِستے ہوئے زخم چھوڑ کر دانشوروں کو چاند ستاروں کا شوق ہے ہستی کی تلخیاں جو گوارا نہ ہو سکیں زندوں سے ہے نفور ، مزاروں کا شوق ہے
ایک ہلچل سی مچی رہتی ہے جب دل کے قریب اپنی کوتاہیٔ دانش کا گلہ کیا کیجیے بارہا ہم بھی گئے تھے درِ زنداں کے قریب
یہ نہ حاصل ہو تو بیکار ہے دنیا ہو کہ دیں
قوتیں اور بھی ہیں دولت و ثروت کے سوا
اب نہ دشمن کا ڈھونڈو کرم ساتھیو منحصر ہے یہ دنیا جو اسباب پر سب ہی اسباب ہوں گے بہم ساتھیو
زندہ دل ہنستے ہنستے گذر جائیں گے موت سے بھی مریں گے نہیں زورؔ ہم زندگی میں جو کچھ کام کر جائیں گے
بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگائے جاتے ہیں
یہ نہیں کہتا کہ ” آنا چاہیے ”