تم لہو رونے کا فن بھول گئے ورنہ میاں
اشک سے سبزہ یہ صحرا نہیں ہوتا کہ نہ ہو
معلیٰ
اشک سے سبزہ یہ صحرا نہیں ہوتا کہ نہ ہو
کھلی جو آنکھ تو پہلی نظر اُسی سے ملی
بہہ گیا تو اشک ٹھہرا جم گیا تو دل ہوا
غرض اب اٹھ نہیں سکتی ، جہاں رکھدی وہاں رکھدی
اُٹھے جاتے ہیں وہ بھی جو یہاں دو چار بیٹھے ہیں
اٹھے ہیں جہاں چار قدم ایک قدم اور
مگر مجھ کو قریبِ آشیاں معلوم ہوتی ہے
سوز ہے مظلوم کا ، ظالم کا سازِ زندگی
یہی اچھے برے دو چار ہیں احسنؔ کے یاروں میں
جب سر نہ کٹ سکا تو خود دل میں کٹ گیا