اُسے چلتے نہ دیکھا بال جس تلوار میں دیکھا
مگر جوہر یہ تیغِ ابروئے خمدار میں دیکھا
معلیٰ
مگر جوہر یہ تیغِ ابروئے خمدار میں دیکھا
ہر چند چڑایا کئے منہ تیرے دہن کا
اس عشقِ بد انجام نے رکھا نہ کہیں کا
کوئی بے مطلب آشنا نہ ہوا
نہ کیوں کر میرے مرنے پر وہ ظالم شادماں ہوتا
کوئی خاکہ ہے دامن کا ، کوئی نقشہ گریباں کا
یہ مصرفِ خیرات سمجھ میں نہیں آتا
تمہیں میری قسم اٹھنا ، ذرا تم بھی سنور جانا
مگر الفت تری اے دشمنِ جانی نہیں جاتی
کہ سجدوں کو جبیں کہیے ، جبیں کو آستاں کہیے