خواب میں ہم نے تجھے رشکِ قمر دیکھ لیا
ڈال کر پردۂ شب ، رُوئے سحر دیکھ لیا اُس نے دل دیکھ لیا ، اُس نے جگر دیکھ لیا اپنا اپنا خلش و درد نے گھر دیکھ لیا شاملِ محفلِ جاناں ہوں یہ تقدیر کہاں کبھی اُس راہ سے گزرا تو اُدھر دیکھ لیا دیکھتے اور وہ کیا حالِ مریضِ وحشت جاں بلب دیکھ […]