خواب میں ہم نے تجھے رشکِ قمر دیکھ لیا

ڈال کر پردۂ شب ، رُوئے سحر دیکھ لیا اُس نے دل دیکھ لیا ، اُس نے جگر دیکھ لیا اپنا اپنا خلش و درد نے گھر دیکھ لیا شاملِ محفلِ جاناں ہوں یہ تقدیر کہاں کبھی اُس راہ سے گزرا تو اُدھر دیکھ لیا دیکھتے اور وہ کیا حالِ مریضِ وحشت جاں بلب دیکھ […]

مجھے خبر نہیں غم کیا ہے اور خوشی کیا ہے

یہ زندگی کی ہے صورت تو زندگی کیا ہے جو مانگتے وہ ملے ایک عیش ہے کیا ہے خدا کے گھر میں کسی چیز کی کمی کیا ہے تم اپنے ہو تو نہیں غم کسی مخالف کا زمانہ کیا ہے ، فلک کیا ہے ، مدعی کیا ہے نثار کیجیے اس شکرئیے میں جانِ عزیز […]