پھولوں سے بھرے باغ بھی ویراں نظر آئے
شہروں میں بہت کم ہمیں انساں نظر آئے
معلیٰ
شہروں میں بہت کم ہمیں انساں نظر آئے
دو اک دیے تھے شہر میں وہ بھی بجھا دئیے
لو نام کہ وہ شخص بھی عریاں نظر آئے
وطن کو بیچ کے خوش ہے بڑی کمائی کی
ان مہوشوں کے پاؤں میں زنجیر چاہیے
اِسے کچھ اور بڑھایا کنارے والوں نے
مرا وجود ہی شاید بچھڑ گیا مجھ سے
اے شہر کیا ہوئی ، تری مٹی کی آبرو
روح کی آگ دبی تھی اسی پتھر میں کہیں
قادرالکلام شاعر حضرت طالب جوہری کی ایک شاہکار نظم : تم کو ہی لکھ رہا ہوں —— نظم نگار :۔ حضرت طالب جوہری ترجمہ نگار : تعبیر علی ۔ انتخاب کلام : ظفر معین بلے جعفری —— Poem :. Writing it to you only Poet : Allama Talib Johri Translated By :Tabeer Ali. Selection : […]