وہ مسجدِ اقصیٰ جلتی ہے ، ایمان شہادت پاتا ہے

قبلۂ اول مسجد اقصٰی کی آتشزدگی کا سانحہ پہلی بار 21 اگست 1969 کو پیش آیا اور اس وقت معروف ادبی شخصیت سید فخرالدین بلے کے اندر کا شاعر بلبلا اٹھا اور انہوں نے ایک شاہکار نظم تخلیق کی ۔جس کا عنوان تھا آگ ۔آج بھی مسجد اقصٰی صیہونی قوتوں کے نشانے پر ہے. اسی […]

میہماں آ کے جو وہ رشکِ گلستاں ہو گا

گھر مرا رشک ، وہ روضۂ رضواں ہو گا طالبِ زخم ہیں میرے جگر و دل دونوں اے فلک تو ہی بتا کس کا وہ مہماں ہو گا مل کے دنیا کے پریرو مجھے مٹی دیں گے آج تابوت مرا تختِ سلیماں ہو گا ان بُتوں سے جو کرے گا تو محبت اے فوقؔ پھر […]

چوٹ اس کے عشق کی ہے جو دل پر لگی ہوئی

تا مرگ یہ رہے گی برابر لگی ہوئی شکوے تو ہیں ہزاروں مگر اُن کے روبرو مہر سکوت ہے مرے لب پر لگی ہوئی سوزِ الم نے دل کو جگر کو جلا دیا اے ہم نفس یہ آگ ہے گھر گھر لگی ہوئی اے فوقؔ دُختِ رند کو کہوں کیا بقولِ ذوقؔ چُھٹتی نہیں ہے […]

آنکھیں کھلیں تو مائلِ پندار کیوں ہوئے

غفلت ہی ہم کو خوب تھی ہشیار کیوں ہوئے پوچھا یہ کیا ؟ ہمارے طلبگار کیوں ہوئے یہ کہیے آپ اتنے طرحدار کیوں ہوئے غافل یہ شرحِ عشق کی گر پیروی نہیں منصور جیسے زیب سرِ دار کیوں ہوئے حیرت نے کی زباں جو دمِ عرض حال بند بولے کہ چُپ ترے لبِ اظہار کیوں […]