اب تک جمی ہوئی ہے گھنی نفرتوں کی برف
اے آفتاب ! تیری تمازت کو کیا ہوا
معلیٰ
اے آفتاب ! تیری تمازت کو کیا ہوا
گر کر بھی پر شکستوں کی ہمت نہ کم ہوئی
اے میرے وجود میں کہاں ہوں
مجھ کو ناکردہ گناہی کی قسم
تم خود کو بدل کر دیکھو تو حالات بدلتے جائیں گے
اور ظاہر میں کوئی بات اِدھر ہے نہ اُدھر
ننگِ برہنگی سے کفن پوش ہو گئے
اور سازِ شکستہ کی نوا اور ہی کچھ ہے
بہت احساس ہے تاہم نہیں ہے
تیرے لیے کہیں گے اگر بات ہو گئی