جیسے مہک اڑے کبھی گل سے صبا کے ساتھ
مجھ سے بچھڑ گیا وہ مگر کس ادا کے ساتھ شعلہ تو ایک پل نہ تہہ آب رہ سکے میں ہوں کہ عمر کاٹ دی اس بے وفا کے ساتھ یوں ہاتھ سے گیا وہ کبھی پھر نہیں ملا اک عمر بھاگتا رہا گو میں ہوا کے ساتھ جو آنکھ دی تو دیکھنا بھی فرض […]