جیسے مہک اڑے کبھی گل سے صبا کے ساتھ

مجھ سے بچھڑ گیا وہ مگر کس ادا کے ساتھ شعلہ تو ایک پل نہ تہہ آب رہ سکے میں ہوں کہ عمر کاٹ دی اس بے وفا کے ساتھ یوں ہاتھ سے گیا وہ کبھی پھر نہیں ملا اک عمر بھاگتا رہا گو میں ہوا کے ساتھ جو آنکھ دی تو دیکھنا بھی فرض […]

سفید جسم مہکتی ہواؤں جیسا ہے

وہ چہرہ زرد ہے پھر بھی شعاعوں جیسا ہے نہ جانے کون سا جھونکا کدھر کو لے جائے مرا سفر تو بھٹکتی صداؤں جیسا ہے تھا ایک میرا بھی سورج ، سو وہ تو ڈوب گیا یہ جسم اب تو اندھیری گپھاؤں جیسا ہے میں اپنے آپ سے سہما ہوا ہوں ڈرتا ہوں ہے کون […]

گو اپنی قید میں پیارے ہم اتنے سال رہے

تیرے خیال سے لیکن نہ بے خیال رہے وہ آںکھ ہی نہ ملی جو کہ دیکھ بھی سکتی ہر اک جواب کے پیچھے کئی سوال رہے میں تجھ کو دیکھوں تو پھر لمبی تان کے سو جاؤں کہ حشر تک میرا ساتھی ترا جمال رہے جو سہہ نہ سکتا ہو اپنے زوال کا صدمہ یہ […]