اک گُل ہی نہیں خار بھی زینت ہے چمن کی
دامن ہے تو دونوں سے ہمیں کام رہے گا
معلیٰ
دامن ہے تو دونوں سے ہمیں کام رہے گا
جب کوئی ہم سا تمہارے آستاں تک آ گیا
تاروں کے دھڑکنے کی صدا گونج رہی ہے
آنکھ اٹھا کر دیکھیے تو آسماں ہے سامنے
بحر سے پوچھئیے دریا کی ضرورت کیا ہے
شورشؔ خدا کا شکر ہے رہبر نہیں ہوں میں
بدن ہے راکھ مگر دوستی ہوا سے ہے
اُس دولتِ جنوں کو سنبھالے ہوئے ہیں ہم
میرا ایماں ہے غریبوں کا خدا آج بھی ہے
دشوار تھا یہ مرحلہ آساں ہونا اے محسنِ انسان ترے صدقے میں انسان کو آ گیا ہے انساں ہونا