میں لوٹا تو مرے آگے وہی منظر پرانا تھا
کئی لوگوں سے ملنا تھا کئی قبروں پہ جانا تھا وہی مایوسیاں بستی میں اب تک راج کرتی تھیں انہیں سانپوں کا ہر چوپال پر حجرہ ٹھکانا تھا
معلیٰ
کئی لوگوں سے ملنا تھا کئی قبروں پہ جانا تھا وہی مایوسیاں بستی میں اب تک راج کرتی تھیں انہیں سانپوں کا ہر چوپال پر حجرہ ٹھکانا تھا
کیا یقیں اب نجات میں رکھنا
وہ میرے ہاتھوں میں کچھ پھول دیکھتا ہے ابھی
قفس میں خوش ہیں جو ان پر نئے عذاب نہ بھیج
باپ کو بچے کا دل آخر مسلنا ہی پڑا
کھلے نہ حال مرے آنسوؤں کے بہنے کا
صحنِ گلشن میں ہی نغماتِ عنادل ڈوبے
چلیے لیکن ساتھ جہاں تک جا سکتے ہیں
وہ خود بھی ویسا نہیں ہے ان دنوں ہر ستم چپ چاپ سہہ لیتے ہیں لوگ جیسے کو تیسا نہیں ہے ان دنوں
ابھی سے اپنی حالت دیکھتا ہوں میں تجھ سے بے وفا کو بھول جاؤں مگر اپنی ضرورت دیکھتا ہوں