بٹھاتے ہیں جو سر آنکھوں پہ سب اس سے خوشی کیا ہو
کسی کی طبعِ نازک پر گراں معلوم ہوتا ہوں
معلیٰ
کسی کی طبعِ نازک پر گراں معلوم ہوتا ہوں
کیا جنوں میں ابھی آمیزشِ دانائی ہے ؟
اور اب جو پہلو کو دیکھتا ہوں تو دل نہیں ہے ، جگر نہیں ہے
منکشف جس پر حقیقت ہو گئی
مقامِ ادب ہے مقامِ محبت
دیتے ہیں کسی ہستیٔ مطلق کی خبر ہم
ترے دستِ کرم میں جب کبھی پیمانہ ہوتا ہے
کہ آنکھیں بند ہوں اور آدمی افسانہ ہو جائے
تو مجھ کو بھری بزم میں تنہا نظر آیا
تقاضا لاکھ تو کر اے دل شیدا نہ دیکھوں گا کروں ناصح میں کیونکر ہائے یہ وعدہ نہ دیکھوں گا نظر پڑ جائے گی خود ہی جو دانستہ نہ دیکھوں گا نگاہ ناز کو تیری میں شرمندہ نہ دیکھوں گا ہٹائے لیتا ہوں اپنی نظر اچھا نہ دیکھوں گا وہ کہتے ہیں نہ سمجھوں گا […]