آنکھیں لگی ہیں در پہ ، نکلتا نہیں ہے دم
ٹھہری ہوئی ہے روح تیرے انتظار میں
معلیٰ
ٹھہری ہوئی ہے روح تیرے انتظار میں
بڑھ کے یہ قطرۂ خوں مہرِ درخشاں ہو جائے
تربت جو کوئی دل کے دھڑکنے کی صدا دے
کیا دم بھی توڑنے کے وہ قابل نہیں رہا
یہ حسن ، یہ انداز و ادا جس کو خدا دے دیکھی نہیں جاتی ہے کسی سے مری حالت اب وہ بھی یہ کہتے ہیں " خدا اس کو شفا دے " پھر ہوش کے عالم میں بھلا آؤں میں کیونکر غش میں مجھے دامن سے جو وہ اپنے ہوا دے جانبازیِ پروانہ پہ کیجے […]
مجھ پر عذاب کر دیا عالم شباب کا دیکھا جو میں نے نامۂ اعمال حشر میں قصہ لکھا تھا میرے اور ان کے شباب کا ہیں یاد ان کی آج تک دل فریبیاں کچھ دیر خواب دیکھا تھا ہم نے شباب کا میرے لیے تو دونوں قیامت سے کم نہ تھے طفلی کا ان کا […]
رگ رگ ہے میرے دل کی غضب کے فشار میں آدم بھی آکے روئے یہاں ہجر یار میں یہ رسم ہے قدیم اس اجڑے دیار میں جاگے تھے شب کو سوئے ہیں دن کو مزار میں دنیا ہوئی ادھر کی اُدھر ہجرِ یار میں جادو بھرا تھا اس نگہ شرمسار میں ملتے ہی آنکھ، دل […]
پھر بھی ہم اپنے گھر میں رہتے ہیں منزلیں ان کو ڈھونڈ لیتی ہیں جو مسلسل سفر میں رہتے ہیں کیوں ہمیں عمر بھر نہیں ملتے وہ جو قلب و نظر میں رہتے ہیں رات ان کو گراں نہیں ہوتی جو امید سحر میں رہتے ہیں وہ جو اک بار ہم سے بچھڑے تھے جانے […]
ازل سے محو ہوں جس کے جمال حیرت افزا کا
میرے تیور دیکھ کر وہ مجھ سے بدظن ہو گیا