تمام عمر رہا میں سبھوں سے بیگانہ
رہا میں اس پہ بھی غربت میں گو وطن میں رہا حریص مایۂ ہستی تھا کس قدر آزادؔ تمام عمر تلاش مئے کہن میں رہا
معلیٰ
رہا میں اس پہ بھی غربت میں گو وطن میں رہا حریص مایۂ ہستی تھا کس قدر آزادؔ تمام عمر تلاش مئے کہن میں رہا
نالہ پر شور سے ہے میرے گھر گھر رت جگا
جام مئے سورج بنا مہتاب مینا بن گیا
جانے کا کہاں قصد کریں ہو کے رہا ہم ہنگامِ سحر بادہ گساری کا مزہ ہے اوقات کریں اپنی تلف بہر دعا ہم
ہزار مشکل سے بارے رخ پر سے اُس نے الٹا نقاب آدھا خدا کی قدرت ہے ورنہ آزادؔ میرا اور ان بتوں کا جھگڑا نہ ہو گا فیصل تمام دن میں مگر بروزِ حساب آدھا
دیکھنا تم دیکھنا مت انجمن میں آئینہ
قصور اپنی نگاہ کا ہے وگرنہ کب وہ حجاب میں ہے
کچھ نہ کچھ بات رقیبوں نے بنائی ہو گی
رنگ شاہد ہے شکست توبہ کی آواز کا
گر ایک بلا وہ ہے تو ہیں ایک بلا ہم تقدیر پہ شاکر رہے راضی برضا ہم اب کس کی شکایت کریں اور کس کا گلا ہم