جب سے پایا دشمنوں نے پاؤں کا میرے سراغ
سر کے بل جاتا ہوں تب سے کوئے جاناں کی طرف
معلیٰ
سر کے بل جاتا ہوں تب سے کوئے جاناں کی طرف
محفل میں اگر مجھ سے نہ شرماؤ تو آؤں کیا گھر میں تمھارے در و دیوار کو دیکھوں تم اپنی جو صورت مجھے دکھلاؤ تو آؤں
سو گالیاں ہمیشہ سنیں اک دعا کے ساتھ
مصر میں جیسے غبارِ کارواں پھرنے لگے
ڈر نہیں ہم سے اگر اب آسماں پھرنے لگے
سنگِ موسیٰ ہو اگر لوں سنگِ مرمر ہاتھ میں تیرے دیوانے کے پیچھے کیا ہے لڑکوں کا ہجوم کچھ ہیں پتھر جھولیوں میں ، کچھ ہیں پتھر ہاتھ میں
کوئی صورت نہیں صفائی کی ڈوب جانے میں کیا رہا باقی آپ سے جب کہ آشنائی کی
سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے
تو بھی تو کبھی پھول چڑھانے کے لیے آ
جس سے لگے نہ ٹھیس مرے اعتبار کو