اگر ہے رسم تو ہم بھی گلہ نہیں کرتے

حسین لوگ کسی سے وفا نہیں کرتے بلند اپنے جنوں کا وقار رکھتے ہیں جو چاک کر لیا دامن سِیا نہیں کرتے او جانے والے انہیں بھی سمیٹ کر لے جا بکھر کے پھول دوبارا کھلا نہیں کرتے رکھے ہیں کس لیے صیاد اس قدر پہرے یہ بِن پروں کے پرندے اُڑا نہیں کرتے ہم […]

ساغر کو تیرے نام کیا اور رو لیے

خود کو نذرِ جام کیا اور رو لیے گُل پھر چراغِ شام کیا اور رو لیے ہم نے یہ اہتمام کیا اور رو لیے ہم نے سحر کو شام کیا اور رو لیے یہ دن بھی تیرے نام کیا اور رو لیے یوں بھی ملے ہیں اُن سے تصور میں بارہا ہم نے انہیں سلام […]