ہمارے پینے کا مقصد اُسے بھلانا تھا
مگر وہ جام میں دیکھو اُتر گیا یارو
معلیٰ
مگر وہ جام میں دیکھو اُتر گیا یارو
لُطف سارا زندگی کا سعیِ لاحاصل میں ہے
میرے ہونٹوں پہ رہتا ہے سدا جاناں جاناں
کیا مل گیا ہے پوچھے کوئی آفتاب سے
حسین لوگ کسی سے وفا نہیں کرتے بلند اپنے جنوں کا وقار رکھتے ہیں جو چاک کر لیا دامن سِیا نہیں کرتے او جانے والے انہیں بھی سمیٹ کر لے جا بکھر کے پھول دوبارا کھلا نہیں کرتے رکھے ہیں کس لیے صیاد اس قدر پہرے یہ بِن پروں کے پرندے اُڑا نہیں کرتے ہم […]
خود کو نذرِ جام کیا اور رو لیے گُل پھر چراغِ شام کیا اور رو لیے ہم نے یہ اہتمام کیا اور رو لیے ہم نے سحر کو شام کیا اور رو لیے یہ دن بھی تیرے نام کیا اور رو لیے یوں بھی ملے ہیں اُن سے تصور میں بارہا ہم نے انہیں سلام […]
سب دیے بجھ جائیں گے ، دل کا دیا رہ جائے گا
کھیل یہ اچھا نہیں ہے دیکھ پروانوں کے ساتھ
غم کو سہنے میں بھی قدرت نے مزا رکھا ہے
ہمارا جام سفر میں رہے تو اچھا ہے