تُو بھی اُڑ جائے گا سوکھے ہوئے پتے کی طرح
تتلیاں بھاگ کے ہاتھوں میں پکڑنے والے
معلیٰ
تتلیاں بھاگ کے ہاتھوں میں پکڑنے والے
وہ کون ہیں پھولوں کے جنہیں ہار ملے ہیں
وہ شخص دیدۂ تر میں رہے تو اچھا ہے
تم کو جنت کا وہاں سے راستہ مل جائے گا
ہو گی نہ تجھ سے پھر ترے ایماں کی احتیاط
ہر شخص کو گزرنا ہے ہر رہگزر سے کیا ؟ یہ راہِ عشق ہے اسے منزل سے کیا غرض اس رہ میں فاصلے کا تعلق سفر سے کیا ؟
اور کوئی آ پہنچا شاید آشیانے سے زندگی کے دھارے پر اور بھی سفینے تھے کتنی کشتیاں ڈوبیں میرے ڈوب جانے سے
گرے بھی تیر کھا کر تو ہوا کا رُخ بتائیں گے ہماری کیا جدائی ہم متاعِ رنگ و بُو ٹھہرے بہاریں جب بھی آئیں گی ، چمن میں ہم بھی آئیں گے
راہ میں فکرِ روزگار بھی ہے ترے وعدے پہ ہم یہ بھول گئے بُھول جانا ترا شعار بھی ہے
جیسے پھر کچھ کھو دیا پایا ہوا ڈھونڈتا پھرتا ہوں میں تعبیرِ خواب اپنے ہی خوابوں کا چونکایا ہوا