یہ ہر ایک موج کی خواہشیں ، یہ کنارے آنے کی اک لگن
یہ وہی رفیق کہیں نہ ہوں کہ جو صدیوں پہلے بچھڑ گئے
معلیٰ
یہ وہی رفیق کہیں نہ ہوں کہ جو صدیوں پہلے بچھڑ گئے
کہ دنیا کی بھی کچھ سُن لے اگر دنیا میں رہنا ہے
نظریں ملی ہیں ایک زلیخا نگاہ سے
یہ کس نے کہہ دیا ہم زیست سے بیزار بیٹھے ہیں
یہ حادثہ ہے کہ ہم اختصار کرتے رہے
آپ دھوکا مجھے دیں اور میں دھوکا نہ کہوں
میری تصویر بنائیں شاید
ہم وہ کہ ہم کو ساری خدائی کی فکر ہے
ہر سمت وہاں آج بارود کی بو ہے سڑکوں پہ جو بہتا ہے یہی رنگِ حنائی یہ رنگ نہیں میرے ہی اپنوں کا لہو ہے
نشترؔ یہ عمر بھر کی کمائی نہیں تو کیا لفظوں کو جوڑ لینا کمالِ ہنر نہیں رنگِ غزل لہو سے حنائی نہیں تو کیا