کس کرب سے لکھا ہے پردیس سے خط اُس نے
یہ مفت کا تحفہ ہے، بچوں کو دعا کہنا
معلیٰ
یہ مفت کا تحفہ ہے، بچوں کو دعا کہنا
لکھنے کے لیے ورنہ سونے کے قلم آتے
موسم کی سیڑھیوں سے جو پتہ اتر گیا
بھٹکنے کو ہم کارواں چھوڑ آئے
مرا نام تھا جہاں ریت پر تری انگلیوں سے لکھا ہوا
تیرا خیال ہم کو جگائے گا آ کے جب زانوئے آرزو پہ سلا دے گی چاندنی
کیا برا تھا اگر جدا ہوتے دکھ اٹھاتے نہ ہمسفر بن کر کاش کہ آپ بے وفا ہوتے
گر پڑا ہے جو آنسوؤں کی طرح میں ازل سے تلاش میں اپنی جلتا بجھتا ہوں جگنوؤں کی طرح
کرب ہی کرب لیے لوٹ کے گھر جاؤ گے تم سمندر کی رفاقت پہ بھروسہ نا کرو تشنگی لب پہ سجائے ہوئے مر جاؤ گے
کچھ اس طرح سے اس نے ستایا تمام رات چپ چاپ صرف گٹکا چبایا تمام رات دن میں تو کہہ رہی تھی کہ تم میرے شیر ہو اور اس کے بعد الو بنایا تمام رات وہ سو رہی تھی اس کا بدن جاگتا رہا سو سو کے اس نے مجھ کو جگایا تمام رات بچوں […]