کثرتِ اولاد

کثرتِ اولاد سے ہم اس قدر بیزار ہیں اب تو بیگم سے الگ رہنے کو بھی تیار ہیں اب یہ عالم ہے کہ جس کمرے میں بھی ڈالو نظر گھر کے ہر کونے میں ہیں بکھرے ہوئے لخت جگر اپنی بیگم پر ہوئے شام و سحر ہم یوں نثار پوسٹروں کی شکل میں رسی پہ […]

نوجوان سپاہی گھر سے رخصت ہوتا ہے

دشمن ازل سے گردشِ چرخِ کُہن کا ہوں تلوار کا دھنی ہوں تو میں شیر رَن کا ہوں ہوں روح خاندان کی ، پھول اِس چمن کا ہوں بھائی بہن کا پیارا عزیز انجمن کا ہوں مجبور ہوں مگر کہ سپاہی وطن کا ہوں اے بوڑھے باپ رُخصتِ میدانِ جنگ دے چہرے کو میرے سُرخیٔ […]

آج کوئی بات ہو گئی

وہ نہ آئے رات ہو گئی جب وہ میرے ساتھ ہو گئے دنیا میرے ساتھ ہو گئی جب وہ ملنے آئے رات کو میری چاند رات ہو گئی مجھ سے برہم آپ کیا ہوئے ساری کائنات ہو گئی مر گئے ترے مریضِ غم درد سے نجات ہو گئی اے دلِ تباہ غم یہ ہے رسوا […]

مجھے درد ہجر دے کر نہ تو بیقرار کرنا

مرے بس کا اب نہیں ہے ترا انتظار کرنا پسِ مرگ اُلجھنوں کا نہ مجھے شکار کرنا کبھی زُلف کو پریشاں نہ سرِ مزار کرنا میں تری ادا کے قرباں ، یہ ادا بھی کیا ادا ہے کبھی مجھ سے رُوٹھ جانا ، کبھی مجھ سے پیار کرنا دل و جاں سے مٹنے والو مرا […]

بے وفا سے بھی پیار ہوتا ہے

یار کچھ بھی ہو یار ہوتا ہے ساتھ اس کے جو ہے رقیب تو کیا پھول کے ساتھ خار ہوتا ہے جب وہ ہوتے ہیں صحن گلشن میں موسم نو بہار ہوتا ہے کاش ہوتے ہم اس کے پھولوں میں اس گلے کا جو ہار ہوتا ہے دوست سے کیوں بھلا نہ کھاتے فریب دوست […]