یہ وقتِ نزع ہے بیمارِ غم کی آخری شب ہے
ستم گر حیلہ جُو اب تو یہ صبح و شام رہنے دے
معلیٰ
ستم گر حیلہ جُو اب تو یہ صبح و شام رہنے دے
ہر قدم پر ہے اسی کا راستہ لکھا ہوا
اک دشتِ کربلا مری تنہائیوں میں ہے
کیا فائدہ اس دور میں فریاد و فغاں سے
یہ رسم حسن میرے گریباں سے چلی ہے
چمن چمن میں یونہی صبح و شام ہوتی رہی
تم ہر اک شخص کے سینے میں مرا دل رکھ دو
ہمارے قطرۂ خوں کا حساب تک نہ ملا
وقت کی صلیبوں پر خوں ہوا ہزاروں کا
ناداں اتنا جان نہ پایا منزل تھی دو گام کے بعد