نہ مرے زخم کھلے نہ ترا رنگ حنا
نہ مرے زخم کھلے ہیں نہ ترا رنگ حنا موسم آۓ ہی نہیں اب کے گلابوں والے
معلیٰ
نہ مرے زخم کھلے ہیں نہ ترا رنگ حنا موسم آۓ ہی نہیں اب کے گلابوں والے
اب کے موج آئی تو پلٹے گی کنارے لے کر
گملے میں لگے پھول کی قسمت ہی الگ ہے
اب وقت پوچھتا ہے ، جوانی کدھر گئی
ایک دیوار کے گرنے کی خبر آئی ہے
چھپ کر نگاہِ شوق سے دل میں پناہ لی دل میں نہ چھُپ سکے تو رگِ جاں میں آ گئے
کیوں لوگوں سے مہر و وفا کی آس لگائے بیٹھے ہو جھوٹ کے اس مکروہ نگر میں لوگوں کا کردار کہاں
جب بھی کوئی اپنی عمر کا جاتا ہے
یہ بھی کیا کم ہے کہ دونوں کا بھرم قائم ہے اس نے بخشش نہیں کی ہم نے گزارش نہیں کی
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں