تجھے خبر ہی نہیں نیند سے بھری لڑکی
مرا بدن تری انگڑائیوں نے توڑ دیا
معلیٰ
مرا بدن تری انگڑائیوں نے توڑ دیا
کون اس صحرا میں اس بیکس کا ہو گا غمگسار
مجھ سے توڑا کیوں تعلق ہائے! او غفلت شعار
آنکھوں سے بچ کے نکلا تو ھونٹوں نے آ لیا
کہ اس خدا نے ، تیرے خدوخال تراشے ھیں
یعنی میں جمع تو مساوی عشق
آج تو اُس پشتون کی آنکھیں کافر کرنے والی ہیں
کسی معذور کو دیکھو گے تو یاد آؤں گا
آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی
ایسے انداز کی بس ایک اکیلی میں ہوں