تمام ہو گئے ہم پہلی ہی نگاہ میں حیف
تمام ہو گئے ہم پہلے ہی نگاہ میں حیف نہ رات وصل کی دیکھی نہ دن جدائی کا
معلیٰ
تمام ہو گئے ہم پہلے ہی نگاہ میں حیف نہ رات وصل کی دیکھی نہ دن جدائی کا
تو کیا سچ مچ جدائی مجھ سے کر لی؟ تو خود اپنے کو آدھا کر لیا کیا؟
تھی وصل میں بھی فکرِ جدائی تمام شب وہ آئے تو بھی نیند نہ آئی تمام شب
اجل کی ہم نے ہنسی اُڑائی اُسے بھی مارا تھکا تھکا کر
کون سی بات کو کس طرح بیاں ہونا ہے
جس کی آنکھوں میں کٹی تھیں صدیاں اس نے صدیوں کی جدائی دی ہے
مگر تم کو نہیں لگتا ؟ جدائی موت ہوتی ہے
مرے کلیجے میں کافر نہیں رہی طاقت خدا کے واسطے مت ذکر کر جدائی کا
وہ دکھ میں میرے ہی شانے پہ سر ٹکاتا ہے
تو نے جا کر تو جدائی مری قسمت کر دی