وصل میں رنگ اڑ گیا میرا
کیا جدائی کو منہ دکھاؤں گا
معلیٰ
کیا جدائی کو منہ دکھاؤں گا
تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ
کسی کی تابش رخســار کا کہــو قصہ کسی کے گیسوئے عنبر فشاں کی بات کرو
کٹ ہی گئی جدائی بھی کب یہ ہوا کہ مرگئے ترے بھی دن گزرگئے مرےبھی دن گزر گئے
کیا اس کو معلوم نہیں ہے موسم کتنا آسم ہے
میں جو اک پیڑ ہوں ، اے کاش پرندہ ہوتی
یہ بھی ممکِن ہے تیری جدائی میں سنور جاوں میں بہت آوارہ سا ہو گیا تھا تیرے لاڈ پیار میں میں
یہ ہم ہی جانتے ہیں جُدائی کے موڑ پر اِس دل کا جو بھی حال تجھے دیکھ کر ہُوا
کچھ درد کلیجے سے لگانے کے لیئے ہیں
میں بس قبیلوں میں شرط لگنے کی منتظر ہوں