اور میں شیشے کی طرح ٹوٹ گئی گرتے ہی
یاد کر ، میں نے کہا تھا مجھے اونچا رکھنا
معلیٰ
یاد کر ، میں نے کہا تھا مجھے اونچا رکھنا
ایک میں اپنے بابا کی اور اک اس کی شہزادی ہوں
اگر تمہاری نہیں تو کسی کی بھی نہ رہوں
ترس ہی جاؤ مری شکل دیکھنے کیلئے
اور سکوں ایسا کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
بدن کے سرد خانے میں ہماری لاش رکھی ہے
اتنی ناکام زندگی کے لئے
مجھے کچھ دن تو رونے دو مری امید ٹوٹی ہے
دل ہے سینے میں تو آخر کو دھڑک سکتا ہے
تمہارے لکھنے سے معتبر نام ہوگیا ہے