مجھے چھوڑ دے میرے حال پر ترا کیا بھروسہ ہے چارہ گر
یہ تری نوازش مختصر میرا درد اور بڑھا نہ دے
معلیٰ
یہ تری نوازش مختصر میرا درد اور بڑھا نہ دے
بس تین حرف یاد ہوئے عین ، شین ، قاف
حکم عدولی کرنے والے میں بگڑی شہزادی ہوں
زمین زادے مری بات ہی نہیں سنتے
لوگ سمجھیں گے مر گئی کومل
ترے دل کے درد کو دیکھ کر مرے دل میں درد ہے کس لئے
تمہارا ہجر نبھایا تو سانولی ہوئی ہے
وہ درد کہ اٹھا تھا یہاں یاد رہے گا
تو قہقہوں کی شال سے چہرے کو ڈھانپ لے
یہ بھی غم حسین کا آنکھوں پہ قرض ہے