ہم بھی کتنے عجیب ہیں محسن
درد کو دل میں چھپا کے رکھتے ہیں
معلیٰ
درد کو دل میں چھپا کے رکھتے ہیں
یہ دل کا درد جو آنکھوں میں آ گیا ہے مری میں چاہتا تھا مرے قہقہوں میں گم ہو جائے
اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم
اس طرح زندگی نے دیا ہے ہمارا ساتھ جیسے کوئی نباہ رہا ہو رقیب سے
آج تک اپنی رفاقت نہ میسر آئی
یہ آپ نہیں شجرہ نسب بول رہا ہے
باغ میں کس قدر اداسی ہے
ملتی ہے زندگی میں یہ راحت کبھی کبھی
تجھے خبر ہی نہیں درد مند شہزادے
کل تک تو ترے ہاتھ میں کشکول رہا ہے