تو میں وہموں کی ماری بس وہیں پر بیٹھ جاتی ہوں
خدا کا واسطہ دے کر وہ جب جانے نہیں دیتا
معلیٰ
خدا کا واسطہ دے کر وہ جب جانے نہیں دیتا
ربا ! عشق نوں پھاہ لگ جاوے
کچھ ایسی ہی ہماری زندگی ہے
میں جانتی تھی مرے خود پسند شہزادے
زندگی تم سے عبارت ہے میری جاں لیکن پھر بھی حسرت ہے یہی ذکر تمھارا کر لیں
درد و آزار سہی جبر سہی غم ہی سہی
اعظمؔ اس غم کا خریدار ہے کوئی کوئی
زندگی دیکھ تری خاص رعایت ہوگی اک محبت ہے مرے پاس اگر کرنے دے
حسرتیں بے شمار لے کے چلے
ذرا ذرا اسے مضبوط کررہی ہوں میں