مر گئے جن کے چاہنے والے
مر گئے جن کے چاہنے والے اُن حسِینوں کی زندگی کیا ہے ؟
معلیٰ
مر گئے جن کے چاہنے والے اُن حسِینوں کی زندگی کیا ہے ؟
مرضِ عشق کی شاید ہو پسِ مرگ شفا زندگی میں تو یہ آزار نہیں جانے کا
میں نے پروین کی انکار وہاں رکھ دی ہے
آگے عشق دی اپنی مرضی
بھول جانے دیجئے بس بھول جانے دیجئے
وہ میرے حصے کا وقت یاروں میں بانٹ دے گا
آپ دستار اُٹھاو تو کوئی فیصلہ ہـو لوگ کہتے ہیں کہ سر ہوتے ہیں دستاروں میں
اتنا نہ اٹھا سر کہیں خطرے میں نہ پڑ جائے یعنی میرا مطلب ہے یہ دستار وغیرہ
اتنی نفرت میں کروں تجھ سے کہ تو کانپ اٹھے
اور ہوتے ہیں جو مَحفِل میں خموش آتے ہیں آندھیاں آتی ہیں جب حضرتِ جوشؔ آتے ہیں